اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے دفتر نے آج منگل کی صبح ان کے متحدہ عرب امارات کے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنا تھا۔
بیان کے مطابق، اس دورے میں نتن یاہو کی اہلیہ سارہ، صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کونسل کے سربراہ، موساد کے سربراہ رومن ہافمن اور صیہونی حکومت کے دیگر عہدیدار بھی نتن یاہو کے ہمراہ تھے۔
نتن یاہو کے دفتر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ کو بھی مسترد کردیا۔
اس سے قبل ایسوسی ایٹڈ پریس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنے حالیہ خفیہ دورۂ امارات کے دوران اس ملک کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بارے میں اپنی پیشگی وارننگ سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ کی تردید کریں۔
اس رپورٹ کے مطابق، نتن یاہو نے متحدہ عرب امارات کے صدر سے اخبار ہاآرتص کی حالیہ رپورٹ کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ محمد بن زاید نے 7 اکتوبر 2023 کے آپریشن سے قبل نتن یاہو کو اس کے ممکنہ وقوع سے آگاہ کردیا تھا۔
نتن یاہو کے دفتر نے اس سے قبل بھی اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ’’وزیراعظم کے خلاف ایک جھوٹی کہانی گھڑی ہے‘‘ جو کبھی پیش ہی نہیں آئی۔
صیہونی حکومت کے چینل 14 نے ایک اماراتی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک کے نمائندوں نے اتوار کے روز ابوظہبی میں اس حکومت کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات نتن یاہو کی درخواست پر ہوئی۔ ملاقات دو حصوں میں ہوئی، ایک میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شریک تھے جبکہ دوسرے حصے میں سعودی عرب سمیت عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس ملاقات میں تین موضوعات کا جائزہ لیا گیا: سکیورٹی تعاون کا تسلسل، جس میں آئرن ڈوم جیسے فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں؛ ایران اور انصار اللہ کے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھنا؛ اور ایک مشترکہ اتحاد کا قیام، جس کا امکان ہے کہ وہ ایران کے خلاف ہوگا۔
آپ کا تبصرہ